مولانا طارق جمیل کا اسلام کیا کہتا ہے؟

چند دن قبل میں نے نامور جرنلسٹ اور موٹیویشنل سپیکر جاوید چودھری کی ویب سائٹ زیروپوائنٹ پر ان کا ایک شاندار آرٹیکل پڑھا  جس میں انہوں نے ایسے علماء اور مذہبی نقاد جو مولانا طارق جمیل کو تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے تھے پر خوب تنقید کی۔ انہوں نے اپنے دنیا دار ہونے پر فخر بھی کیا اور آرٹیکل کا نام بھی یہی رکا، مجھے دنیا دار ہونے پر فخر ہے۔ مجھے اس تحریر نے متاثر کیا اور ارادہ کیا کہ جب بھی فارغ وقت ملا تواس حوالے سے اپنا نقطہ ِ نظر بھی لکھوں گا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں شرحِ خواندگی محض چالیس فیصد ہے۔ اس سے بھی چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ چار فیصد طلباء یونیورسٹی سطح پر تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔باقی چھیانوے فیصد میں سے دو کروڑ بچے سکول جا ہی نہیں پاتے۔ہماری ساٹھ فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔دیہاتوں میں ابھی تک وڈیرہ اور چودھری کلچر زندہ ہے۔وہاں کے امام اور علماء میاں جی کہلاتے ہیں۔ ان کی اکثریت شریعہ اور فقہ تو دور، تفسیرِ قرآن کی ایک کتاب کے مطالعہ سے بھی محروم ہوتی ہے۔ میرا اپنا تعلق پاکپتن کے ایک گاؤں سے ہے سو میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ میاں جی حضرات ان پڑھ اور جاہل ہوتے ہیں جن کا علم کتب کے مطالعہ اور اجتہادِ دین کی بجائے چند فرقہ پرست علماء کی تقاریر اور نصیحتوں کی مرہونِ منت ہوتا ہے۔لہٰذا یہ کسی نہ کسی فرقے کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ اکثر تو جمعہ کا خطبہ دے ہی نہیں پاتے اور جو دیتے ہیں، وہ محض کسی کتاب سے پڑھ کر سناتے ہیں۔یہ حضرات غلط قرآن پڑھتے ہیں۔ گاؤں کے بچوں کو بھی قرآن غلط ہی پڑھاتے ہیں اور مسجد میں کتنے لوگ آتے ہیں، کتنے نہیں آتے؟ تبلیغ کی ضرورت ہے گاؤں کو؟ انہیں ان چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ دیہی مساجد کے خادمین صبح شام گاؤں سے روٹی سالن جمع کرتے ہیں اور مسجد میں حاضری محض صفائی کی غرض سے دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ملک کی ساٹھ فیصد آبادی ان پڑھ ہے اور دیہاتوں میں یہ شرح بڑھ کر اٹھانوے فیصد تک جا پہنچتی ہے، تو حال یہ ہوتا ہے کہ دیہاڑیوں پر جینے والے بیچارے دیہاتی عید پر بھی اپنے پرانے لباس زیب تن کرکے میں جی کی مسجد میں پیسے دیتے ہیں راہِ خدا میں۔ جبکہ میاں جی کے پاس بیس تیس جوڑے اکٹھے ہو جاتے ہیں جو کہ ان کا سارا خاندان بعد میں شیئر کرتا ہے۔اب اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے شہروں کے علماء کا حال بہت بہتر ہے تو آپ بھی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ ہمارے علماء شیعہ، سنی، اہلِ حدیث اور دیوبندی کے چکر میں پڑ کر اصل حقائق پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے فرقے کے مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ یہ سب اپنی اپنی دوکانیں چلا رہے ہیں۔ ہر طرف منبر سے آگ برس رہی ہے۔ طنز کے تیر چل رہے ہیں اور اجتہاد سے دوری مسلسل قائم ہے۔ ہمارے صحابہ کرام، تابعین اور امام و اولیاء سبھی بشر تھے۔ ان سے بھی بشری غلطیاں ہوئیں۔ سب میں اختلافِ رائے تھا مگر اختلافِ رائے کا احترام بھی تھا۔ اسی وجہ سے اقبال نے فرمایا تھا کہ اجتہاد کو زندہ کرو۔ کیونکہ ۳۱ویں صدی میں یہ بند ہو گیا تھا۔ مگر ہمارے جاہل مذہبی نام نہاد مولوی مسلسل منبروں سے آگ برسا رہے ہیں اور فرقہ ورانہ لڑائیاں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔آئے روز لوگ لڑتے ہیں اور ایک دوسرے کا سر پھوڑتے ہیں مگر علماء کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ ان حالات میں ان کا فرض کیا بنتا ہے اور وقت کی ضرورت کیا ہے؟ اپنے ہی مر رہے ہیں اور اپنے ہی مار رہے ہیں۔ ایسے میں مولانا طارق جمیل پاکستان میں ان علماء میں سے ہیں جو کہ محبت و الفت کا درس دیتے ہیں۔ وہ معاف کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ جڑ کر رہنے کا درس دیتے ہیں۔ وہ بھائی بھائی بن کر رہنے کی نصیحت کرتے ہیں۔اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ جنت کی راہ دکھاتے ہیں۔ گھر اور بازار کا اسلام سکھاتے ہیں۔ غم میں شکرِ خداند کریم اور خوشی میں سجدے میں گر جانے کا درس دیتے ہیں۔ وہ اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ گمراہوں کو مواقع دیتے ہیں۔اسلام کی خوبصورت تصویر پیش کرتے ہیں۔ اللہ سے ڈراتے نہیں، اللہ سے جوڑتے ہیں۔ وہ کسی سے کچھ نہیں لیتے۔مفت میں خطبات ریکارڈ کرواتے ہیں۔بلا اجرت تبلیغ کرتے ہیں۔ دین کو ساری دنیا میں پھیلاتے ہیں۔ کسی کو گالی نہیں دیتے۔ کسی کو برا بھلا نہیں کہتے۔ کسی سے شکوہ نہیں کرتے۔وہ صرف محبت کا درس دیتے ہیں۔ دنیا میں پیار بانٹتے ہیں اور اللہ سے پیار کرنا سکھاتے ہیں۔ پھر یہ کون لوگ ہیں جو ان پر تنقید کرنا نہیں چھوڑتے؟ یہ کیوں انہیں برا بھلا کہتے ہیں؟ کیوں ان کو ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں؟کیا مولانا نے جواب میں انہیں کبھی برا بھلا کہا؟ کیا مولانا ان ہونٹوں کو جو ریاستِ مدینہ بنانے کی بات کرتے ہیں کو چومنے کا اعلان کرتے ہیں تو غلط کہتے ہیں؟ کیا مولانا طارق جمیل کے مخالف ریاستِ مدینہ کی بجائے ایک فرقہ واریت، مذہبی جاہلیت اور جنونیت کا شکار بیمار ملک چاہتے ہیں؟ ان کا اور مولانا طارق جمیل کا اسلام الگ الگ کیوں ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب محض یہ ہے کہ فرقہ پرست اور جاہل مولوی سیاسی اور سماجی مفادات کی خاطر اپنی اپنی دوکانیں بچانے ک لیے مولانا کے پیچھے پڑے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر سچ میں ریاستِ مدینہ بن گئی تو ان کے کاروبار بند ہو جائیں گے اور عوام ان کو اور ان کی تعلیمات کو یکسر مسترد کر دے گی۔انہیں مولانا سے نہیں، اس تبدیلی سے ڈر لگتا ہے جو مولانا طارق جمیل پسند کر بیٹھے ہیں۔ انہیں اپنی حثیت خطرے میں لگتی ہے۔اپنا آپ بچانے کیلیے انہیں جس پر بھی تنقید کرنی پڑی یا الزام لگانا پڑا، یہ لگائیں گے۔یہ نعرے مولا علی کے لگائیں گے مگر کام بنو امیہ والے کریں گے۔اللہ بس ان پر رحم کرے۔

Writer: Faraz Ahmad is a student Journalist

One thought on “مولانا طارق جمیل کا اسلام کیا کہتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *