Challenge to Traditional Gender Behavior: Gateway to Women Achievements” Seminar By Human Rights Ministry

وفاقی وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام ”روائتی صنفی رویوں کو چیلنج – عورتوں کی ترقی کا راستہ ” کے موضوع پر ویبنار کا انعقاد
اسلام آباد: وفاقی سیکرٹری وزارت انسانی حقوق رابعہ جویریہ آغا نے کہا ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کو روائتی صنفی خیالات سے بچانے اور با ہمت خواتین کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے حکومت، سول سوسائٹی تنظیموں، بین الاقوامی اداروں اور نجی شعبے کے مابین اشتراک عمل نہائت ضروری ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ”روائتی صنفی رویوں کو چیلنج – عورتوں کی ترقی کا راستہ ” کے موضوع پر منعقدہ ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رابعہ جویریہ آغا کی میزبانی میں وزارت انسانی حقوق پاکستان اور یورپین یونین کے اشتراک سے منعقدہ اس ویبنار کے ڈسکشن پینل میں فلم ” ایک لڑکی جس نے پورے شہر کو تبدیل کردیا ” کی نوجوان ہیرو ارم بلوچ، جیکب آباد کے ممتاز تاجر اور زمیندار ارسلان آغا،پاکستان میں اقوام متحدہ کی خواتین کی ڈپٹی کنٹری ریپریزنٹیٹوعائشہ مختار، سندھ لیگل ایڈ سوسائٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیرسٹر حیا ایمن زاہد شامل تھیں۔ ویبنار کا بنیادی مقصد ایسے طریقوں پر غورو خوض کرنا تھا جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے صنف سے متعلق روائتی/دقیانوسی خیالات کو تبدیل کرنے کیلئے متنوع وسائل جیسا کہ آرٹ، میوزک، فلم، کھیل، آگاہی مہم اور ایک آزاد، مساوی اور صنفی شمولیت کے حامل معاشرے کی طرف پیشرفت ممکن بنائی جاسکے۔
واضح رہے کہ یہ ویبنار ”ریلز فار رائٹس” آن لائن فلمی میلے کا حصہ ہے۔ میلے کا انعقاد وزارت انسانی حقوق پاکستان اور یورپی یونین نے باہمی اشتراک کیساتھ کیا ہے۔ یہ میلہ چاراگست کو شروع ہوا اور 25 اگست کو اختتام پذیر ہوگا اس میلے کو صنفی برابری اور خواتین کو بااختیار بنانے پر مرکوز کرتے ہوئے پاکستان میں انسانی حقوق کے مختلف امور کے بارے میں آگاہی اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے ایک جدید اور موثر طریقہ کے طور پردیکھا جا رہا ہے۔میلے میں فلم ” ایک لڑکی جس نے پورے شہر کو تبدیل کردیا ” کی نمائش بھی کی گئی ہے۔
ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے فلم کی ہیرو ارم بلوچ جنکا تعلق بلوچستان کے شہر جیکب آباد سے ہے نے کہا کہ انہوں نے جن مشکل ذاتی حالات اور معاشرتی اصولوں کے باوجود ہاکی کھیلنے کے شوق کو اپنایا وہ ایک خوشگوار تجربہ ہے اور دیگر لڑکیوں کو ہمت دلاتا ہے۔ ارم بلوچ نے کہا کہ انہوں نے کامیابی کے ساتھ اپنی ذاتی ”اسٹارز ویمن ہاکی اکیڈمی” تشکیل دی جس کا مقصد لڑکیوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا ہے۔ انہوں نے خواتین کو پیشہ ورانہ بنیاد پر کھیلوں کو سیکھنے اور اپنانے کے مواقع فراہم کرنے کیلئے عوامی مقامات پر کھیل کی زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ارسلان آغا نے شمالی سندھ کے دیہی علاقے جیکب آباد کے قدامت پسند ثقافتی سیاق و سباق کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں خواتین کیلئے مواقع پیدا کرنے کے سلسلے میں معاشی اور بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹوں کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے تعلیم کو بہتر بنانے کی اہمیت، لڑکیوں کو بااختیار بنانے اور رواتی معاشرتی تصورات کو چیلنج کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔عائشہ مختار نے وہ مختلف طریقے بتائے جن کے ذریعے اقوام متحدہ پاکستان میں صنفی برابری کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے متعدد منصوبوں کی مخصوص مثالیں بھی پیش کیں جو کھیلوں کے میدان میں خواتین کے زیرقیادت اقدامات کی حمایت کرتی ہیں۔
سندھ لیگل ایڈ سوسائٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیرسٹر حیا ایمن زاہد نے خواتین کو بااختیار بنانے کے معاملے میں کریمنل جسٹس پراجیکٹ پر بات چیت کی۔ انہوں نے نچلی سطح پرخواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کیلئے پولیس اور عدلیہ کو حساس بنانے کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت اہمیت پر بھی زور دیا۔
ویبنار کی میزبان اور وزارت انسانی حقوق کی وفاقی سکریٹری محترمہ رابعہ جویریہ آغا نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ ارم بلوچ جیسی باہمت لڑکیاں اور خواتین پاکستانی معاشرے میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کی نمائندہ ہیں اور سب خواتین کو ہمت دلاتی ہیں۔ انہوں نے کھیلوں کے میدان میں خواتین کے لئے وافر مواقع پیدا کرنے کے لئے نچلی سطح پر سول سوسائٹی تنظیموں، سرکاری اداروں اور نجی شعبے میں باہمی تعاون کے اقدامات کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی۔
واضح رہے کہ جاری میلے کے دوران، وزارت انسانی حقوق نے معلوماتی ویڈیوز کی ایک مختصر سی سیریز کی بھی نمائش کی ہے۔ اس وڈیوسیریزکا بنیادی مقصد ایف آئی آر درج کرانے، خواتین کے وراثت کے حقوق، اور نِکا ح نامہ پر دستخط کرنے کے قانونی مضمرات جیسے معاملات سے متعلق خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ یہ وڈیو سیریز وزارت نے شرمین عبید چنائے (ایس او سی) فلمز کے اشتراک سے تیارکی ہے۔
اس اقدام کے پیچھے کار فرما اصل مقصد عام لوگوں، طلبائ، ماہرین تعلیم، فنکاروں، فلم سازوں، انسانی حقوق کےلئے سرگرم کارکنوں، سرکاری عہدیداروں، اداروں اور عالمی برادری کے درمیان اشتراک عمل کو فروغ کیلئے مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دینا ہے۔یہ پلیٹ فارم فلم اورباہمی افہام و تفہیم پر مبنی مباحثوں جیسے تخلیقی وسائل کے ذریعہ مثبت معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بننے کیساتھ ساتھ عوامی سطح پر شعورکی بیداری اورآگاہی کو بھی فروغ دے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *